نجیب احمد ۔۔۔ ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو!

ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو!
کیا مرے ساتھ سمندر میں اتر سکتے ہو؟

نیند کے شہر سے گزرو تو اجازت ہے تمھیں
خواب کی گلیوں میں کچھ دیر ٹھہر سکتے ہو

حسنِ توقیر سے رکھنا ہیں خد و خال تہی
رنگ رُسوائی کا تصویر میں بھر سکتے ہو

منصبِ عشق طلب کرتے ہو کس برتے پر
کیا کسی کے لیے جی سکتے ہو؟ مر سکتے ہو؟

کیا کہوں ، شہرِ قناعت میں ہے برکت کتنی
مختصر یہ کہ بسر چین سے کر سکتے ہو

دُکھ اسیری کے اٹھائے ہیں کہاں تم نے نجیب
تم پرندوں کے پر و بال کتر سکتے ہو

Related posts

Leave a Comment